Ad

ڈاہرانوالہ تحصیل چشتیاں:گورنمنٹ گرلز ایلمنٹری سکول 136 مراد میں سکول ہیڈ ٹیچر کی سر پرستی میں بچیوں کی غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کا معاملہ سامنے آ گیا ،گاؤں کے مکینوں کا شدید احتجاج،سی ای او ایجوکیشن کا سخت نوٹس،ہیڈ ٹیچر سمیت دو ملازمین کو معطل کر دیا گیا

 

    

ڈاہرانوالہ تحصیل چشتیاں:گورنمنٹ گرلز ایلمنٹری سکول 136 مراد میں سکول ہیڈ ٹیچر کی سر پرستی میں بچیوں کی غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کا معاملہ سامنے آ گیا ،گاؤں کے مکینوں کا شدید احتجاج،سی ای او ایجوکیشن کا سخت نوٹس،ہیڈ ٹیچر سمیت دو ملازمین  کو معطل کر دیا گیا:

مزید پڑھیں:

knowledge point pk  ڈاہرانوالہ

ڈاہرانوالہ  گورنمنٹ گرلز ایلمنٹری سکول 136 مرادڈاہرانوالہ میں سکول ہیڈ ٹیچر میڈیم ذاکیہ ناہید کی سر پرستی میں بچیوں کی غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کا معاملہ،گاؤں کے مکینوں کا شدید احتجاج،سکول بند کر دیا، بچیوں کو سکول بھیجنے سے انکار،سی ای او ایجوکیشن کا سخت نوٹس،سکول کی ہیڈ ٹیچر میڈم ذاکیہ ناہید اور درجہ چہارم کے دو ملازمین کو معطل کر دیا گیا.معطل کیے گئے ملازمین میں سکول ہیڈ ٹیچر میڈم ذاکیہ ناہید اور درجہ چہارم کے دو ملازمین محمد سہیل انور اور عدنان نواز شامل ہیں.سی ای او ایجوکیشن بہاولنگر نے ڈی ای او فوزیہ انجم بخاری کو معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری افسر مقرر کر دیا ہے اور انکوائری افسر کو پانچ روز میں معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔واضح رہے ڈاہرانوالہ کے قریبی چک نمبر 136 مراد میں اہلیان علاقہ کا گورنمنٹ گرلز ایلمینٹری سکول انتظامیہ اور عملہ کے خلاف الزام عائد کیا کہ سرکاری سکول میں تعینات درجہ چہارم کے ملازمین عدنان اور سہیل طالبات کو تنگ کرتے ہیں اور ان کی نازیبا ویڈیو بناکر متعدد طالبات کو بلیک میل کرتے رہے ہیں اور میڈم ذکیہ ناہید ان اوباش ملازمین کی پشت پناہی کرتی ہے نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر کاروائی نہیں کی گئی.جس پر ہم نے احتجاج کے طور پر اپنی بچیوں کو سکول جانے سے روک دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ جب تک مذکورہ اوباش ملازمین اور انکی سرپرستی کرنے والی میڈیم ذکیہ ناہید کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی ہم اپنی بچیوں کو سکول نہیں بھیجیں گے.اہلیان علاقہ کے احتجاج کے باعث گذشتہ 4 دنوں سے سکول بند ہے۔ احتجاجی افراد نے سکول کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا جس پر سی ای او ایجوکیشن نے فوری نوٹس لیا.تاہم گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قبیح فعل میں ملوث سکول کی میڈم اور ملازمین کو صرف معطل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا.ان کو مستقل طور پر ملازمت سے برخاست کیا جائے.سیاسی پشت پناہی کے باعث ہم اس معاملے کو دبنے نہیں دیں گے.ہمیں ہر صورت انصاف چاہیئے.اگر انصاف نہ ملا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا

  

Post a Comment

0 Comments